آگ کس کی ہے روشن برق کے شرارے میں

تلوک چند محروم


کون ہے ضیا افگن چاند میں ستارے میں
آگ کس کی ہے روشن برق کے شرارے میں
جلوہ آفریں آخر ہو گیا مرے حق میں
دل کا جذب ہو جانا ہر حسیں نظارے میں
تیرے اک تبسم سے روح زندگی شاداں
کام ہے تمام اس کا تیرے اک اشارے میں
سامنے ہے بحر عشق اور ہے دعا میری
یار ہوں کنارے پر یا ہوں تیز دھارے میں
بزمِ ناز میں آخر بار مل گیا سب کو
کیا حضور کا فرماں ہے تلکؔ کے بارے میں
فاعِلن مفاعیلن فاعِلن مفاعیلن
ہزج مثمن اشتر
فہرست