ہر غمِ جاں کاہ سے آرام جاں پیدا کریں

تلوک چند محروم


دل اگر شائستۂ دردِ نہاں پیدا کریں
ہر غمِ جاں کاہ سے آرام جاں پیدا کریں
کفر و دیں میں اتحاد جاؤداں پیدا کریں
نالۂ ناقوس سے بانگ اذاں پیدا کریں
امتیاز این و آں سے این و آں دونوں تباہ
اب نہ ہرگز امتیاز این و آں پیدا کریں
ایک ہم ہیں اپنے گلشن کو جو صحرا کر چکے
ایک وہ ہیں دشت میں جو گلستاں پیدا کریں
آدمیت کو نہ چھوڑیں ہم غنیمت ہے یہی
کون کہتا ہے صفات قدسیاں پیدا کریں
جو محبان وطن شان وطن پر مر مٹے
خاک سے ان کی نیا ہندوستاں پیدا کریں
دور دنیا سے کہیں اے طبع مضموں آفریں
اک خیالی عالم‌‌ امن و اماں پیدا کریں
نکتہ چینی سے نہ باز آئیں گے ہرگز نکتہ چیں
لاکھ اے محرومؔ ہم حسنِ بیاں پیدا کریں
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن
رمل مثمن محذوف
فہرست