یہ کام چھوڑ سیہ بخت آسماں کے لیے

تلوک چند محروم


نہ پھر جہاں میں بلندی عزِ و شاں کے لیے
یہ کام چھوڑ سیہ بخت آسماں کے لیے
مری فغاں ہی سے رونق ہے میری ہستی کی
صدا جرس کی ضروری ہے کارواں کے لیے
خلش نے دل کو مرے کچھ مزا دیا ایسا
کہ جمع کرتا ہوں میں خار آشیاں کے لیے
کیا ہے وار تو کام اب تمام کرتا جا
نہ چھوڑ مجھ کو ستم ہائے آسماں کے لیے
نہیں ہے شکوۂ خوبان آتشیں رخسار
ازل سے وقف ہے دل سوزش نہاں کے لیے
خدا کرے یہ سمجھ لے مآل عشقِ بتاں
دعا کرو کوئی محرومؔ خستہ جاں کے لیے
مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
فہرست