اے دل اتنا بھی اضطراب نہ کر

حسرت موہانی


ان کو رسوا مجھے خراب نہ کر
اے دل اتنا بھی اضطراب نہ کر
آمد یار کی امید نہ چھوڑ
دیکھ اے آنکھ میل خواب نہ کر
مل ہی رہتی ہے مے پرست کو مے
فکر نایابی شراب نہ کر
ناصحا ہم کریں گے شرح جنوں
دلِ دیوانہ سے خطاب نہ کر
شوق یاروں کا بے شمار نہیں
ستم اے دوست بے حساب نہ کر
دل کو مست خیالِ یار بنا
لب کو آلودۂ شراب نہ کر
رکھ بہرحال شغلِ مے حسرتؔ
اس میں پروائے شیخ و شاب نہ کر
فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
فہرست