کیا ہے جو یہ عالم خس و خاشاک نہیں ہے

سیماب اکبر آبادی


انجام ہر اک شے کا بجز خاک نہیں ہے
کیا ہے جو یہ عالم خس و خاشاک نہیں ہے
کہہ دو وہ ستا کر مجھے بے فکر نہ بیٹھیں
میرے ہی لیے گردشِ افلاک نہیں ہے
آنکھوں سے ہر اک پردۂ موہوم ہٹا دے
اتنی نگہِ شوق ابھی چالاک نہیں ہے
کر چاکِ گریباں سے نہ اندازۂ وحشت
دیوانے ابھی دامنِ دل چاک نہیں ہے
سیمابؔ دعا کیجیے کیا صبر و سکوں کی
شائستۂ تسکیں دل غم ناک نہیں ہے
مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست