یعنی اثر نہ ہو تو فریب اثر تو ہو

سیماب اکبر آبادی


رسماً ہی ان کو نالۂ دل کی خبر تو ہو
یعنی اثر نہ ہو تو فریب اثر تو ہو
ہم بھی تمہاری بزم میں ہیں درخور کرم
اچھا وہ مستقل نہ سہی اک نظر تو ہو
کیا فرض ہے کہ ہم نہ ہوں تقدیر آزما
دنیا پڑی ہوئی ہے در یار پر تو ہو
سب کہہ رہے ہیں ہم پہ گراں ہے شبِ فراق
اس کا بھی کچھ علاج کریں گے سحر تو ہو
سیمابؔ آدھی رات کو آئیں وہ بے قرار
تیری دعائے نیم شبی میں اثر تو ہو
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست