اک طرف دونوں جہاں ایک طرف دل ہو جائے

سیماب اکبر آبادی


ختم اس طرح نزاع حق و باطل ہو جائے
اک طرف دونوں جہاں ایک طرف دل ہو جائے
دل میں وہ شورشِ جذبات وہ گرمی نہ رہی
اب یہ شاید نگہ دوست کے قابل ہو جائے
جانتا ہوں کہ وفا جی سے گزرنا ہے مگر
یوں نہ دے طعن کہ جینا مجھے مشکل ہو جائے
دو جہاں ترکِ محبت میں کیے تیرے لیے
اور بیزار جو تجھ سے بھی مرا دل ہو جائے
قدر انساں ہے ابھی بزم عدم میں سیمابؔ
کیوں وہ دنیا میں رہے جو کسی قابل ہو جائے
فہرست