ورنہ ہر ذرہ ہے دنیا چشم عرفاں کے لیے

سیماب اکبر آبادی


وسعتیں محدود ہیں ادراک انساں کے لیے
ورنہ ہر ذرہ ہے دنیا چشم عرفاں کے لیے
اے خزاں تو شوق کے سارا چمن برباد کر
چند پھانسیں چھوڑ جا میری رگِ جاں کے لیے
دور پہونچیں شہرتیں رفتار سحر آثار کی
کھل گئے رستے ترے حسن خراماں کے لیے
پھول گلشن کے نہیں تو خاک صحرا ہی سہی
کچھ نہ کچھ تو چاہیے تسکین داماں کے لیے
اس لیے دیتا دل تم کو کہ لو اور بھول جاؤ
میں نے اک تصویر دی ہے طاق نسیاں کے لیے
دھجیاں اڑنے کو اے سیمابؔ وسعت چاہیے
ہے کوئی میدان آشوب گریباں کے لیے
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن
رمل مثمن محذوف
فہرست