حقیقت تیری کیا ہے پہلے یہ پہچان پیدا کر

سیماب اکبر آبادی


جو سالک ہے تو اپنے نفس کا عرفان پیدا کر
حقیقت تیری کیا ہے پہلے یہ پہچان پیدا کر
جہاں جانے کو سب دشوار ہی دشوار کہتے ہیں
وہاں جانے کا کوئی راستہ آسان پیدا کر
حقیقت کا کہے جو حال کر ایسی زباں پیدا
محبت کے سنیں جو گیت ایسے کان پیدا کر
حدود عالم تکویں میں سب ممکن ہی ممکن ہے
تو نا ممکن کے جھگڑے میں نہ پڑا امکان پیدا کر
الٰہی بھید تیرے اس نے ظاہر کر دیے سب پر
کہا تھا کس نے تو سیمابؔ کو انسان پیدا کر
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
ہزج مثمن سالم
فہرست