سبھی آئے مگر کوئی نہ شایان شباب آیا

شکیل بدایونی


زمیں پر فصلِ گل آئی فلک پر ماہتاب آیا
سبھی آئے مگر کوئی نہ شایان شباب آیا
مرا خط پڑھ کے بولے نامہ بر سے جا خدا حافظ
جواب آیا مری قسمت سے لیکن لا جواب آیا
اجالے گرمیِ رفتار کا ہی ساتھ دیتے ہیں
بسیرا تھا جہاں اپنا وہیں تک آفتاب آیا
شکیلؔ اپنے مذاق دید کی تکمیل کیا ہو گی
ادھر نظروں نے ہمت کی ادھر رخ پر نقاب آیا
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
ہزج مثمن سالم
فہرست