تو نہیں ہے تری نگاہ تو ہے

شکیل بدایونی


عشق کا کوئی خیر خواہ تو ہے
تو نہیں ہے تری نگاہ تو ہے
عرضِ غم کیوں نہ ان سے کر دیکھوں
اب بھی تھوڑی سی رسم و راہ تو ہے
زندگی اک سیاہ رات سہی
عاشقی اک چراغِ راہ تو ہے
روز و شب کی حقیقتیں معلوم
اک تماشائے مہر و ماہ تو ہے
تاب جلوہ مجھے نہیں نہ سہی
لیکن اک جرات نگاہ تو ہے
اوراقبال‌ جرم کیا ہو شکیلؔ
تھرتھراتے لبوں پہ آہ تو ہے
فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
فہرست