زندگی ہی زندگی ہے آج کل

شکیل بدایونی


ہم ہیں اور ان کی خوشی ہے آج کل
زندگی ہی زندگی ہے آج کل
غم کا ہر عالم نیا ہے ان دنوں
دل کی ہر دنیا نئی ہے آج کل
ان کا ذکر ان کی تمنا ان کی یاد
وقت کتنا قیمتی ہے آج کل
چاند بھی ہے سوگوار ہجر دوست
پھیکی پھیکی چاندنی ہے آج کل
جل رہی ہے دل میں شمع آرزو
غم کدے میں روشنی ہے آج کل
تو ہے اور دریا دلی ہے ساقیا
میں ہوں اور تشنہ لبی ہے آج کل
بے قراری کروٹوں پر کروٹیں
دل کا عالم دیدنی ہے آج کل
عرضِ غم پر مسکراتے بھی نہیں
برہمی سی برہمی ہے آج کل
حاصل ترکِ محبت دیکھنا
انجمن سونی پڑی ہے آج کل
دل میں اور مایوسیوں میں اے شکیلؔ
اتحاد باہمی ہے آج کل
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن
رمل مسدس محذوف
فہرست