رو رہا ہوں ہنسی نہیں جاتی

شکیل بدایونی


میری دیوانگی نہیں جاتی
رو رہا ہوں ہنسی نہیں جاتی
تیرے جلووں سے آشکارا ہوں
چاند کی چاندنی نہیں جاتی
ترک مے ہی سمجھ لے اے ناصح
اتنی پی ہے کہ پی نہیں جاتی
جب سے دیکھا ہے ان کو بے پردہ
نخوت آ گہی نہیں جاتی
شوخی حسنِ بے اماں کی قسم
حسن کی سادگی نہیں جاتی
ان کی دریا دلی کو کیا کہیے
میری تشنہ لبی نہیں جاتی
فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
فہرست