یعنی رہ رہ کے انہیں یاد کیے جاتا ہوں

شکیل بدایونی


دل وہی دل جسے ناشاد کیے جاتا ہوں
یعنی رہ رہ کے انہیں یاد کیے جاتا ہوں
سعی ضبطِ غم بیداد کیے جاتا ہوں
پختہ تر عشق کی بنیاد کیے جاتا ہوں
دل کو وقف غم بیداد کیے جاتا ہوں
اپنا گھر آپ ہی برباد کیے جاتا ہوں
ایک وہ ہیں کہ تغافل سے نہیں ان کو گریز
ایک میں ہوں کہ انہیں یاد کیے جاتا ہوں
کیا یہ کم ظلم ہے کچھ غور تو کیجے دل میں
آپ ہنستے ہیں میں فریاد کیے جاتا ہوں
بھول کر عہدِ گزشتہ کی حکایات شکیلؔ
دل کو ہر فکر سے آزاد کیے جاتا ہوں
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فہرست