لوح ادراک پہ کچھ اور ابھر جاتے ہیں

شکیل بدایونی


جب کبھی ہم ترے کوچے سے گزر جاتے ہیں
لوح ادراک پہ کچھ اور ابھر جاتے ہیں
حسن سے لیجیے تنظیم دو عالم کا سبق
صبح ہوتی ہے تو گیسو بھی سنور جاتے ہیں
ہم نے پایا ہے محبت کا خمار ابدی
کیسے ہوتے ہیں وہ نشے کہ اتر جاتے ہیں
اتنے خائف ہیں مے و مہ سے جناب واعظ
نام کوثر بھی جو سنتے ہیں تو ڈر جاتے ہیں
مے کدہ بند مقفل ہیں در دیر و حرم
دیکھنا ہے کہ شکیلؔ آج کدھر جاتے ہیں
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فہرست