جو کچھ بھی ہو قصور کیے جا رہا ہوں میں

شکیل بدایونی


شکوے ترے حضور کیے جا رہا ہوں میں
جو کچھ بھی ہو قصور کیے جا رہا ہوں میں
وہم تعینات کا انجام دیکھنا
نزدیکیوں کو دور کیے جا رہا ہوں میں
محو طواف کوچۂ ہستی میں رحمتیں
شاید کوئی قصور کیے جا رہا ہوں میں
رکھی ہوئی ہے سنگِ در یار پر جبیں
اس عجز پر غرور کیے جا رہا ہوں میں
نذر نگاہِ ناز ہیں دل کی نزاکتیں
شیشے کو چور چور کیے جا رہا ہوں میں
ربط نیاز و ناز کا عالم تو دیکھنا
نادم ہیں وہ قصور کیے جا رہا ہوں میں
سوچا کبھی نہ حضرتِ واعظ نے یہ شکیلؔ
رندوں میں ذکر حور کیے جا رہا ہوں میں
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست