چراغ سینکڑوں جلتے ہیں روشنی کم ہے

شکیل بدایونی


ترے بغیر عجب بزمِ دل کا عالم ہے
چراغ سینکڑوں جلتے ہیں روشنی کم ہے
جو جی رہے ہیں انہی کے لیے ہر اک غم ہے
زہے نصیب کہ پھولوں کی زندگی کم ہے
قفس سے آئے چمن میں تو بس یہی دیکھا
بہار کہتے ہیں جس کو خزاں کا عالم ہے
خیال ترکِ محبت کی خیر ہو یا رب
کچھ آج مست نگاہوں کی بے رخی کم ہے
بنائے ہیں اسی شبنم نے سینکڑوں دریا
نہیں ملال جو دریا حریف شبنم ہے
کہا یہ دل نے سنی گفتگو جو ناصح کی
مبالغہ ہے بہت اس میں واقعہ کم ہے
بہار آئے چمن میں یہ انتظار نہ دیکھ
شکیلؔ اپنے جنوں کی بہار کیا کم ہے
مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
فہرست