خالی ہی سہی میری طرف جام تو آیا

شکیل بدایونی


خوش ہوں کہ مرا حسنِ طلب کام تو آیا
خالی ہی سہی میری طرف جام تو آیا
کافی ہے مرے دل کی تسلی کو یہی بات
آپ آ نہ سکے آپ کا پیغام تو آیا
اپنوں نے نظر پھیری تو دل تو نے دیا ساتھ
دنیا میں کوئی دوست مرے کام تو آیا
وہ صبح کا احساس ہو یا میری کشش ہو
ڈوبا ہوا خورشید لبِ بام تو آیا
لوگ ان سے یہ کہتے ہیں کہ کتنے ہیں شکیلؔ آپ
اس حسن کے صدقے میں مرا نام تو آیا
مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست