بے خودی کچھ تو بتا کس کے طلب گار ہیں ہم

فانی بدایونی


وادی شوق میں وارفتۂ رفتار ہیں ہم
بے خودی کچھ تو بتا کس کے طلب گار ہیں ہم
ہاں ابھی بے خبر لذتِ آزار ہیں ہم
مژدہ اے مشقِ ستم تازہ گرفتار ہیں ہم
ہو غمِ ہستی جاؤید گوارا کیونکر
جان کیا دیں کہ بہت جان سے بے زار ہیں ہم
میں نے گویا صلۂ مہر و وفا بھر پایا
کاش اتنا ہی وہ کہہ دیں کہ جفاکار ہیں ہم
یوں تو کچھ غم سے سروکار نہ راحت کی تلاش
غم کوئی دل کے عوض دے تو خریدار ہیں ہم
وہ ہے مختار سزا دے کہ جزا دے فانیؔ
دو گھڑی ہوش میں آنے کے گنہ گار ہیں ہم
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فہرست