شرر تو لپکا مگر شعلۂ صدا نہ ہوا

اختر ہوشیارپوری


طلسم گنبد بے در کسی پہ وا نہ ہوا
شرر تو لپکا مگر شعلۂ صدا نہ ہوا
ہمیں زمانے نے کیا کیا نہ آئنے دکھلائے
مگر وہ عکس جو آئینہ آشنا نہ ہوا
بیاض جاں میں سبھی شعر خوبصورت تھے
کسی بھی مصرع رنگیں کا حاشیا نہ ہوا
نہ جانے لوگ ٹھہرتے ہیں وقت شام کہاں
ہمیں تو گھر میں بھی رکنے کا حوصلا نہ ہوا
وہ شہر آج بھی میرے لہو میں شامل ہے
وہ جس سے ترک تعلق کو اک زمانا ہوا
یہی نہیں کہ سر شب قیامتیں ٹوٹیں
سحر کے وقت بھی ان بستیوں میں کیا نہ ہوا
میں دشت جاں میں بھٹک کر ٹھہر گیا اخترؔ
پھر اس کے بعد مرا کوئی راستا نہ ہوا
مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
فہرست