پیچھے نہ لگاؤ اس بلا کو

امیر مینائی


لٹکاؤ نہ گیسوئے رسا کو
پیچھے نہ لگاؤ اس بلا کو
ظالم تجھے دل دیا، خطا کی
بس بس میں پہنچ گیا، سزا کو
اے حضرتِ دل بتوں کو سجدہ
اتنا تو نہ بھولیے خدا کو
اتنا بکیے کہ کچھ کہے وہ
یوں کھولیے قفل مدعا کو
کہتی ہے امیر اس سے شوخی
اب منہ نہ دکھائیے حیا کو
مفعول مفاعِلن فَعُولن
ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف
فہرست