کہتا ہے حسن میں نہ رہوں گا حجاب میں

امیر مینائی


جب خوبرو چھپاتے ہیں عارض نقاب میں
کہتا ہے حسن میں نہ رہوں گا حجاب میں
بے قصد لکھ دیا ہے گلہ اضطراب میں
دیکھوں کہ کیا وہ لکھتے ہیں خط کے جواب میں
دو کی جگہ دیے مجھے بوسے بہک کے چار
تھے نیند میں، پڑا انہیں دھوکا حساب میں
سمجھا ہے تو جو غیبت پیرِ مغاں حلال،
واعظ، بتا یہ مسئلہ ہے کس کی کتاب میں؟
دامن میں ان کے خوں کی چھینٹیں پڑیں امیر
بسمل سے پاس ہو نہ سکا اضطراب میں
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست