میں ہوا منکر تو پھر تیری قسم کھائے گا کون

قتیل شفائی


اتنے اونچے مرتبے تک تجھ کو پہنچائے گا کون
میں ہوا منکر تو پھر تیری قسم کھائے گا کون
تیرے رستے میں کھڑی تھیں کون سی مجبوریاں
میں سمجھ لوں گا مگر دنیا کو سمجھائے گا کون
مل رہی ہے جب ہمیں اک راحت آوارگی
لوٹ کر اس انجمن سے اپنے گھر جائے گا کون
میری معزولی کی سننا چاہتے ہیں سب خبر
سوچتا ہوں جانشیں بن کر مرا آئے گا کون
چاہتا ہوں ایک چنگاری میں اس چقماق سے
لیکن اس پتھر سے آخر مجھ کو ٹکرائے گا کون
نیک لوگوں کے لیے موجود ہو تم اے خضر
میں اگر بھٹکا تو مجھ کو راہ پر لائے گا کون
اس کے وعدوں میں قتیلؔ اک حسن اک رعنائی ہے
وہ نہ ہو گا جب تو اس سا مجھ کو بہلائے گا کون
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن
رمل مثمن محذوف
فہرست