کوئی منزل نہ ملے راہ گزر جائے کہاں

محبوب خزاں


حسن سے ہٹ کے محبت کی نظر جائے کہاں
کوئی منزل نہ ملے راہ گزر جائے کہاں
تم بہت دور ہو ہم بھی کوئی نزدیک نہیں
دل کا کیا ٹھیک ہے کم بخت ٹھہر جائے کہاں
دیکھیے خوابِ سحر چاٹیے دیوار ازل
رات جاتی نظر آتی ہے مگر جائے کہاں
رخ صحرا ہے خزاںؔ گھر کی طرف مدت سے
ہم جو صحرا کی طرف جائیں تو گھر جائے کہاں
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فہرست