دریا تو بدلتا نہیں پانی ہی بدل دے

محسن احسان


بہتے ہوئے لمحوں کی کہانی ہی بدل دے
دریا تو بدلتا نہیں پانی ہی بدل دے
یا گھر کو مرے دولت آرام و سکوں بخش
یا آرزوئے نقل مکانی ہی بدل دے
کیا اس سے کریں زحمت تکرار کہ جو شخص
الفاظ کے مفہوم و معانی ہی بدل دے
ترمیم و تنوع ہے کہانی میں ضروری
راجا تو بدلتا نہیں رانی ہی بدل دے
اس گھر کی طرف اس کی نشانی پہ چلے ہو
محسنؔ وہ اگر گھر کی نشانی ہی بدل دے
مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست