اگر ایمان سے مطلوب ہو انساں ہونا

تلوک چند محروم


کچھ بری بات نہیں صاحب ایماں ہونا
اگر ایمان سے مطلوب ہو انساں ہونا
برگ ہائے گلِ تر کا یہ پریشاں ہونا
جرم ہے گل کدۂ دہر میں خنداں ہونا
جب کسی غنچے کو کھلتے ہوئے دیکھا میں نے
آ گیا یاد وہیں دل کا پریشاں ہونا
ہو گیا میری پریشاں نظری کا باعث
جلوۂ حسن کا ہر سمت فراواں ہونا
اہلِ وحشت کا ٹھکانا بھی کہیں تو ہوتا
نہیں بے صرفہ بیاباں کا بیاباں ہونا
دم غمِ عشق کا بھرتے ہوئے نالے کرنا
آرزو درد کی اور طالب درماں ہونا
باعث حیرت ارباب سخن ہے محرومؔ
عہدِ پیری میں تمہارا یہ غزل خواں ہونا
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فہرست