موت اچھی ہے بس جوانی کی

ثروت حسین


قسم اس آگ اور پانی کی
موت اچھی ہے بس جوانی کی
اور بھی ہیں روایتیں لیکن
اک روایت ہے خوں فشانی کی
جسے انجام تم سمجھتی ہو
ابتدا ہے کسی کہانی کی
رنج کی ریت ہے کناروں پر
موج گزری تھی شادمانی کی
چوم لیں میری انگلیاں ثروتؔ
اس نے اتنی تو مہربانی کی
فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
فہرست