اب کوئی جستجو نہیں شوق سلام کے سوا

حفیظ ہوشیارپوری


اب کوئی آرزو نہیں ذوق پیام کے سوا
اب کوئی جستجو نہیں شوق سلام کے سوا
کوئی شریکِ غم نہیں اب تری یاد کے بغیر
کوئی انیسِ دل نہیں اب ترے نام کے سوا
تیری نگاہِ مست سے مجھ پہ یہ راز کھل گیا
اور بھی گردشیں ہیں کچھ گردش جام کے سوا
خواہش آرزو سہی حاصل زندگی مگر
حاصل آرزو ہے کیا سوز مدام کے سوا
آہ کوئی نہ کر سکا چارۂ تلخی فراق
نالۂ صبح کے بغیر گریۂ شام کے سوا
رنگ بہار پر نہ بھول بوئے چمن سے در گزر
یہ بھی ہیں خوش نما فریب دانہ و دام کے سوا
مر کے حیاتِ جاؤداں عشق کو مل گئی حفیظؔ
جی کے ہوس کو کیا ملا مرگ دوام کے سوا
مفتَعِلن مفاعِلن مفتَعِلن مفاعِلن
رجز مثمن مطوی مخبون
فہرست