ایک ہی لمحے میں جیسے عمر بھر دیکھا کیے

حفیظ ہوشیارپوری


آج انہیں کچھ اس طرح جی کھول کر دیکھا کیے
ایک ہی لمحے میں جیسے عمر بھر دیکھا کیے
دل اگر بیتاب ہے دل کا مقدر ہے یہی
جس قدر تھی ہم کو توفیق نظر دیکھا کیے
خود فروشانہ ادا تھی میری صورت دیکھنا
اپنے ہی جلوے بہ اندازِ دگر دیکھا کیے
ناشناس غم فقط داد ہنر دیتے رہے
ہم متاع غم کو رسوائے ہنر دیکھا کیے
دیکھنے کا اب یہ عالم ہے کوئی ہو یا نہ ہو
ہم جدھر دیکھا کیے پہروں ادھر دیکھا کیے
حسن کو دیکھا ہے میں نے حسن کی خاطر حفیظؔ
ورنہ سب اپنا ہی معیار نظر دیکھا کیے
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن
رمل مثمن محذوف
فہرست