پھر وہی اپنا حال کر رکھنا

رسا چغتائی


سامنے جی سنبھال کر رکھنا
پھر وہی اپنا حال کر رکھنا
آ گئے ہو تو اس خرابے میں
اب قدم دیکھ بھال کر رکھنا
شام ہی سے برس رہی ہے رات
رنگ اپنے سنبھال کر رکھنا
عشق کار پیمبرانہ ہے
جس کو چھونا مثال کر رکھنا
کشت کرنا محبتیں اور پھر
خود اسے پائمال کر رکھنا
روز جانا اداس گلیوں میں
روز خود کو نڈھال کر رکھنا
سخت مشکل ہے آئنوں سے رساؔ
واہموں کو نکال کر رکھنا
فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
فہرست