یا سرِ شام مر گئے ہوتے

رسا چغتائی


شام سے پہلے گھر گئے ہوتے
یا سرِ شام مر گئے ہوتے
اس گدایانہ زندگی سے تو
وضع دارانہ مر گئے ہوتے
یوں بھی اک عمر رائیگاں گزری
یوں بھی کچھ دن گزر گئے ہوتے
تو جو دل سے اتر گیا ہوتا
زخمِ دل کے ابھر گئے ہوتے
ہم نہ ہوتے تو حادثات جہاں
جانے کس کس کے سر گئے ہوتے
کوئی دامن کش خیال نہ تھا
ورنہ ہم بھی ٹھہر گئے ہوتے
شمعِ محفل نہ تھے کہ محفل میں
لے کے ہم زخمِ سر گئے ہوتے
فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
فہرست