چمن تک آ گئی دیوارِ زنداں ہم نہ کہتے تھے

سیف الدین سیف


بڑے خطرے میں ہے حسن گلستاں ہم نہ کہتے تھے
چمن تک آ گئی دیوارِ زنداں ہم نہ کہتے تھے
بھرے بازار میں جنسِ وفا بے آبرو ہو گی
اٹھے گا اعتبار کوئے جاناں ہم نہ کہتے تھے
اسی محفل اسی بزم وفا کے گوشے گوشے میں
لٹے گی مستی چشمِ غزالاں، ہم نہ کہتے تھے
اسی رستے میں آخر وہ کڑی منزل بھی آئے گی
جہاں دم توڑ دے گی یاد یاراں ہم نہ کہتے تھے
خزاں کی آہٹوں پر کانپتی ہیں پتیاں گل کی
بکھرنے کو ہے اب زلف بہاراں ہم نہ کہتے تھے
دل فطرتِ شناس آخر کہیں یوں ہی دھڑکتا ہے
فریب حسن ہے جشنِ چراغاں ہم نہ کہتے تھے
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
ہزج مثمن سالم
فہرست