شگفت موسمِ گل کام یاب ہو نہ سکا

سیماب اکبر آبادی


سکوں پذیر جنون شباب ہو نہ سکا
شگفت موسمِ گل کام یاب ہو نہ سکا
اڑائے برق و گل و لالہ نے بہت خاکے
مگر کوئی مرے دل کا جواب ہو نہ سکا
وہاں ہم آرزوئے خواب عیش کیا کرتے
جہاں قیام بمقدار خواب ہو نہ سکا
بدل گئیں وہ نگاہیں یہ حادثہ تھا اخیر
پھر اس کے بعد کوئی انقلاب ہو نہ سکا
وہاں پیام کی گنجائشیں کہاں سیمابؔ
جہاں سلام مرا مستجاب ہو نہ سکا
مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
فہرست