تو اپنے ہر تصور میں مری تصویر دیکھیں گے

سیماب اکبر آبادی


وہ جب رنگ پریشانی کو خلوت گیر دیکھیں گے
تو اپنے ہر تصور میں مری تصویر دیکھیں گے
سنا ہے حسن کو دہ چند کر دیتا ہے یہ شیشہ
لگا کر اپنے دل میں آپ کی تصویر دیکھیں گے
وفا کا تذکرہ کیا اب تو یہ ارشاد ہے ان کا
کہ تم نالہ کرو ہم گرمی تاثیر دیکھیں گے
شکستہ ہر کڑی ہے ہر کڑی میں دل کے ٹکڑے ہیں
بڑی عبرت سے دیوانے مری زنجیر دیکھیں گے
خیال حشر و نشر فکر اے سیمابؔ لا حاصل
کہ ہے تقدیر میں جو کچھ بہر تقدیر دیکھیں گے
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
ہزج مثمن سالم
فہرست