تو اس باطل کدے میں زندگی دشوار ہو جائے

سیماب اکبر آبادی


جو انساں باریاب پردۂ اسرار ہو جائے
تو اس باطل کدے میں زندگی دشوار ہو جائے
یہ دنیائے وفا دنیائے بے آزار ہو جائے
مجھی پر کیوں نہ تکمیل جفائے یار ہو جائے
جو ظلمت میں بھی تنویر حقیقت دیکھنا چاہے
وہ میری طرح پچھلی رات سے بیدار ہو جائے
غرورِ حسن بھی میرے لیے جزو ادا دائرے
مرا احساس بھی تیرے لیے پندار ہو جائے
غمِ پنہاں سے دم گھٹتا ہے اے سیمابؔ کیا کہیے
خدا ایسا کرے یہ قابل اظہار ہو جائے
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
ہزج مثمن سالم
فہرست