آنکھ والوں سے نہ دیکھا
جائے گا
سب طرح کی سختیاں سہہ
جائے گا
کیوں دلا تو بھی کبھی کام
آئے گا
ایک دن ایسا بھی ناصح
آئے گا
غم کو میں اور غم مجھے کھا
جائے گا
اے فلک ایسا بھی اک دن
آئے گا
وصل میں دھڑکا ہے ناحق ہجر کا
آ چکے احباب اٹھانے میری لاش
ناز اس کو دیکھیے کب
لائے گا
چوٹ کھائے دل کا ماتم دار ہے
میرا نالہ بھی تڑپتا
جائے گا
چھوڑ دے ہم وحشیوں کو اے غبار
پیچھے پیچھے تو کہاں تک
آئے گا
منتظر ہے جانِ بر لب آمدہ
دیکھیے کب پھر کے قاصد
آئے گا
ہجر میں نالے غنیمت جان لے
نیم کشتہ ہیں تو ہیں پھر کیا کریں
جوشِ وحشت تجھ پہ صدقے اپنی جان
اور بھی تڑپا دیا غم خوار نے
خود ہے وحشی کیا مجھے
بہلائے گا
راہرو تجھ سا کہاں اے خضر شوق
کون تیری خاکِ پا کو
پائے گا
باغ میں کیا جائیں آتی ہے خزاں
گل کا اترا منہ نہ دیکھا
جائے گا
میری جاں میں کیا کروں گا کچھ بتا
کیوں نہ میں مشتاق ناصح کا رہوں
نام تیرا اس کے لب پر
آئے گا
دل کے ہاتھوں روح اگر گھبرا گئی
کھو گئے ہیں دونوں جانب کے سرے
میں کہاں واعظ کہاں توبہ کرو
تھک کے آخر بیٹھ جائے گا غبار
کارواں منہ دیکھ کر رہ
جائے گا
دل کے ہاتھوں سے جو گھبراؤگے شادؔ
کم نہ سمجھو شوق کو اے شادؔ تم
اک نہ اک بڑھ کے یہ آفت
لائے گا
ہے خزاں گل گشت کو جاؤ نہ شادؔ
گریۂ شبنم نہ دیکھا
جائے گا
کچھ نہ کہنا شادؔ سے حال خزاں
اس خبر کو سنتے ہی مر
جائے گا