درد بھی دے گا ساتھ کہاں تک بیدل ہی بن جانا ہو گا

شان الحق حقی


دنیا ہی کی راہ پہ آخر رفتہ رفتہ آنا ہو گا
درد بھی دے گا ساتھ کہاں تک بیدل ہی بن جانا ہو گا
حیرت کیا ہے ہم سے بڑھ کر کون بھلا بیگانہ ہو گا
خود اپنے کو بھول چکے ہیں تم نے کیا پہچانا ہو گا
دل کا ٹھکانا ڈھونڈ لیا ہے اور کہاں اب جانا ہو گا
ہم ہوں گے اور وحشت ہو گی اور یہی ویرانہ ہو گا
بیت گیا جو یاد میں تیری اک اک لمحے کا ہے دھیان
الفت میں جی ہارنا کیسا جو کھویا سب پانا ہو گا
اور تو سب دکھ بٹ جاتے ہیں دل کے درد کو کون بٹائے
دنیا کے غم برحق لیکن اپنا بھی غم کھانا ہو گا
دل میں ہجوم درد ہے لیکن آہ کے بھی اوسان نہیں
اس بدلی کو یوں ہی آخر بن برسے چھٹ جانا ہو گا
ہم تو فسانہ کہہ کر اپنے دل کا بوجھ اتار چلے
تم جو کہو گے اپنے دل سے وہ کیسا افسانہ ہو گا
اس بستی کا کون مسیحا اس بستی کا کون خدا
خود ہی حشر اٹھانے ہوں گے مرنا اور جی جانا ہو گا
فہرست