پھر بھی مری نظروں کے حضور

شکیل بدایونی


دور ہیں وہ اور کتنی دور
پھر بھی مری نظروں کے حضور
رنج و مصیبت جور و ستم
آپ کی خاطر سب منظور
دل پر بیتے لب پہ نہ آئے
ہائے محبت کا دستور
حسرتِ دید از دید بلند
حور سے بہتر وعدۂ حور
پردۂ رنگ و بو تو اٹھاؤ
ہو گا کوئی نہ کوئی ضرور
دور ترقی کیا ہے شکیلؔ
دنیا کی عقلوں کا فتور
فہرست