دنیا کے رنگ و بو کا سماں دیکھتا ہوں میں

شکیل بدایونی


بیگانہ ہو کے بزمِ جہاں دیکھتا ہوں میں
دنیا کے رنگ و بو کا سماں دیکھتا ہوں میں
روشن ضمیر جیسے کوئی صرف دید ہوئے
یوں جلوہ ہائے کون و مکاں دیکھتا ہوں میں
ارزاں ہے ظلم و جور کی افتادگی مگر
جنس‌ و‌ وفا و مہر گراں دیکھتا ہوں میں
اک سمت جشن شادی و ہنگامۂ نشاط
اک سمت حشر آہ و فغاں دیکھتا ہوں میں
شرح الم دراز ہے القصہ اے شکیلؔ
اک داغ اپنے دل میں نہاں دیکھتا ہوں میں
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست