آئینہ ایک طرف، عکس بھی حیراں ہو گا

امیر مینائی


رو برو آئینے کے ، تو جو مری جاں ہو گا
آئینہ ایک طرف، عکس بھی حیراں ہو گا
اے جوانی، یہ ترے دم کے ہیں، سارے جھگڑے
تو نہ ہو گی، تو نہ یہ دل، نہ یہ ارماں ہو گا
دستِ وحشت تو سلامت ہے ، رفو ہونے دو
ایک جھٹکے میں نہ دامن نہ گریباں ہو گا
آگ دل میں جو لگی تھی، وہ بجھائی نہ گئی
اور کیا تجھ سے ، پھر اے دیدۂ گریاں ہو گا
اپنے مرنے کا تو کچھ غم نہیں، یہ غم ہے ، امیر
چارہ گر مفت میں بیچارہ پشیماں ہو گا
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فہرست