عمرِ رفتہ کو بھی بلوائیے گا

امیر مینائی


میری تربت پر اگر آئیے گا
عمرِ رفتہ کو بھی بلوائیے گا
سب کی نظروں پہ نہ چڑھیے اتنا
دیکھیے دل سے اتر جائیے گا
آئیے نزع میں بالیں پہ مری
کوئی دم بیٹھ کے اٹھ جائیے گا
وصل میں بوسۂ لب دے کے کہا
منہ سے کچھ اور نہ فرمائیے گا
ہاتھ میں نے جو بڑھایا تو کہا
بس، بہت پاؤں‌ نہ پھیلائیے گا
زہر کھانے کو کہا، تو، بولے
ہم جلا لیں گے جو مر جائیے گا
حسرتیں نزع میں ‌بولیں مجھ سے
چھوڑ کر ہم کو کہاں جائیے گا
آپ سنیے تو کہانی دل کی
نیند آ جائے گی سو جائیے گا
اتنی گھر جانے کی جلدی کیا ہے ؟
بیٹھیے ، جائیے گا، جائیے گا
کہتے ہیں، کہہ تو دیا، آئیں گے
اب یہ کیا چڑ ہے کہ کب آئیے گا
ڈبڈبائے مرے آنسو تو کہا
رویے گا تو ہنسے جائیے گا
رات اپنی ہے ٹھہریے تو ذرا
آئیے بیٹھیے ، گھر جائیے گا
جس طرح عمر گزرتی ہے امیر
آپ بھی یونہی گزر جائیے گا
فاعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مسدس مخبون محذوف مسکن
فہرست