میں نے کس پیار سے رکھے ہیں ترے نام کئی

شاذ تمکنت


قصۂ شوق کے عنوان دل آرام کئی
میں نے کس پیار سے رکھے ہیں ترے نام کئی
ٹکٹکی باندھ کے بس دور سے تکتے رہنا
وصل میں ملتے ہیں اب ہجر کے آلام کئی
عقدۂ جاں کو ہے اب تک ترے ناخن سے امید
کس کو معلوم ادھورے ہیں مرے کام کئی
دل زندہ سے ہے یہ گرمیِ بازار حیات
سر سودا زدہ قائم ہے تو الزام کئی
وادی سنگ سے ان جان گزرنے والے
نا تراشیدہ رہے جاتے ہیں اصنام کئی
کچھ نہ کچھ کہتی تھی وہ آنکھ دمِ رخصت شوق
لے کے اٹھا ہوں کسی بزم سے اوہام کئی
جیسے ہر ایک دریچے میں ترا چہرہ ہو
یوں مرے حال پہ ہنستے ہیں در و بام کئی
شاذؔ اب اس کی خموشی کو دعا دینا ہے
جس نے بھیجے تھے مجھے نامہ و پیغام کئی
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فہرست