آپ کی زلفِ گرہ گیر ہماری ہو گی

قتیل شفائی


مہرباں ہم پہ جو تقدیر ہماری ہو گی
آپ کی زلفِ گرہ گیر ہماری ہو گی
عمر بھر آپ ہی دیکھیں گے کوئی خوابِ طرب
لیکن اس خواب کی تعبیر ہماری ہو گی
آج کی رات ہے عرفان حجابات کی رات
آج ہر شمع میں تنویر ہماری ہو گی
آج پھر وصل کے اڑتے ہوئے لمحے سن لیں
وقت کے پاؤں میں زنجیر ہماری ہو گی
کچھ بھی ہو آپ کے ماحول کا معیار حیات
آپ کے ذہن میں تصویر ہماری ہو گی
تہمتوں سے ہمیں دے گا یہ جہاں دادِ وفا
اب اسی ڈھنگ سے توقیر ہماری ہو گی
ایک عنواں میں سمٹ آئیں گے سو نام قتیلؔ
داستاں جب کوئی تحریر ہماری ہو گی
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فہرست