یہ تو پوچھا چاہیے کیا چاہیے

کلیم عاجز


منہ فقیروں سے نہ پھیرا چاہیے
یہ تو پوچھا چاہیے کیا چاہیے
چاہ کا معیار اونچا چاہیے
جو نہ چاہیں ان کو چاہا چاہیے
کون چاہے ہے کسی کو بے غرض
چاہنے والوں سے بھاگا چاہیے
ہم تو کچھ چاہے ہیں تم چاہو ہو کچھ
وقت کیا چاہے ہے دیکھا چاہیے
چاہتے ہیں تیرے ہی دامن کی خیر
ہم ہیں دیوانے ہمیں کیا چاہیے
بے رخی بھی ناز بھی انداز بھی
چاہیے لیکن نہ اتنا چاہیے
ہم جو کہنا چاہتے ہیں کیا کہیں
آپ کہہ لیجے جو کہنا چاہیے
بات چاہے بے سلیقہ ہو کلیمؔ
بات کہنے کا سلیقہ چاہیے
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن
رمل مسدس محذوف
فہرست