بس یہی دعا میں کروں ہوں اب کہ یہ غم کسی کو خدا نہ دے

کلیم عاجز


مرا حال پوچھ کے ہم نشیں مرے سوزِ دل کو ہوا نہ دے
بس یہی دعا میں کروں ہوں اب کہ یہ غم کسی کو خدا نہ دے
یہ جو زخمِ دل کو پکائے ہم لیے پھر رہے ہیں چھپائے ہم
کوئی نا شناس مزاج غم کہیں ہاتھ اس کو لگا نہ دے
تو جہاں سے آج ہے نکتہ چیں کبھی مدتوں میں رہا وہیں
میں گدائے راہ گزر نہیں مجھے دور ہی سے صدا نہ دے
تب و تاب عشق کا ہے کرم کہ جمی ہے محفل چشمِ نم
ذرا دیکھیو اے ہوائے غم یہ چراغ کوئی بجھا نہ دے
وہ جو شاعری کا سبب ہوا وہ معاملہ بھی عجب ہوا
میں غزل سناؤں ہوں اس لیے کہ زمانہ اس کو بھلا نہ دے
متَفاعلن متَفاعلن متَفاعلن متَفاعلن
کامل مثمن سالم
فہرست