بلا رہی ہے ابھی تک وہ دلنشیں آواز

ناصر کاظمی


بسا ہوا ہے خیالوں میں کوئی پیکرِ ناز
بلا رہی ہے ابھی تک وہ دلنشیں آواز
وہی دنوں میں تپش ہے وہی شبوں میں گداز
مگر یہ کیا کہ مری زندگی میں سوز نہ ساز
نہ چھیڑ اے خلشِ درد بار بار نہ چھیڑ
چھپائے بیٹھا ہوں سینے میں ایک عمر کے راز
بس اب تو ایک ہی دھن ہے کہ نیند آ جائے
وہ دن کہاں کہ اٹھائیں شبِ فراق کے ناز
گزر ہی جائے گی اے دوست تیرے ہجر کی رات
کہ تجھ سے بڑھ کے ترا درد ہے مرا دمساز
یہ اور بات کہ دنیا نہ سن سکی ورنہ
سکوت اہلِ نظر ہے بجائے خود آواز
یہ بے سبب نہیں شام و سحر کے ہنگامے
اٹھا رہا ہے کوئی پردہ ہائے راز و نیاز
ترا خیال بھی تیری طرح مکمل ہے
وہی شباب، وہی دلکشی، وہی انداز
شراب و شعر کی دنیا بدل گئی لیکن
وہ آنکھ ڈھونڈ ہی لیتی ہے بیخودی کا جواز
عروج پر ہے مرا درد ان دنوں ناصر
مری غزل میں دھڑکتی ہے وقت کی آواز
مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
فہرست