غم دے چکے بہت کوئی غم خوار بھی تو ہو

تلوک چند محروم


لاکھوں ہیں دل ربا کوئی دل دار بھی تو ہو
غم دے چکے بہت کوئی غم خوار بھی تو ہو
فریاد میں تو میں مرے زخمِ جگر کریں
اس بزم میں اجازت گفتار بھی تو ہو
قسمیں نہ بار بار دلائیں تو کیا کریں
اقرار سا کوئی ترا اقرار بھی تو ہو
افسوس ہے کہ ساتھ تمہارے نہ میں رہوں
موجود گل جہاں ہے وہاں خار بھی تو ہو
محرومؔ لا جواب ہے یہ مصرعۂ امیرؔ
عیسیٰ ہیں سینکڑوں کوئی بیمار بھی تو ہو
فہرست