ساقی پلا اسی کو جسے تشنہ کام دیکھ

تلوک چند محروم


سر مست مے کو دیکھ کے مت سوئے جام دیکھ
ساقی پلا اسی کو جسے تشنہ کام دیکھ
عشوے ترے ہیں خوب مگر اے عروس دہر
جو تجھ سے بے نیاز ہیں ان کا مقام دیکھ
افزونی جمال کا باعث ہے فاصلہ
فرشِ زمیں سے جلوۂ ماہِ تمام دیکھ
کچھ کہہ رہی ہیں تجھ سے ستاروں کی چشمکیں
چشم یقیں سے جلوۂ نیرنگ شام دیکھ
نظارۂ جہاں سے نہ دے دل کو داغِ رشک
عبرت کی آنکھ سے یہ تماشائے عام دیکھ
گونجا کیے کبھی جو نوا ہائے عیش سے
کس حال میں ہیں وہ در و دیوار و بام دیکھ
ہمدم محاسبہ مرے اعمال کا نہ کر
اس کو خدا پہ چھوڑ کے میرا کلام دیکھ
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست