راستے سے بے خبر رہنا بھی اچھی بات ہے

سید ضمیر جعفری


گمرہوں کا ہم سفر رہنا بھی اچھی بات ہے
راستے سے بے خبر رہنا بھی اچھی بات ہے
کچھ نہ کچھ ناپختگی بھی آدمی کا حسن ہے
کچھ نہ کچھ نا معتبر رہنا بھی اچھی بات ہے
جس میں سب بے خانماں رہتے ہوں ایسے شہر میں
گھر کا بے دیوار و در رہنا بھی اچھی بات ہے
اور بھی کچھ دن گزر جاتے وہاں تو خوب تھا
اس گلی میں ورنہ مر رہنا بھی اچھی بات ہے
جنگلوں میں زرد پت جھڑ کا سفر ہے زندگی
اس سفر کا مختصر رہنا بھی اچھی بات ہے
اک نہ اک خواہش کی چنگاری سلگتی رکھ ضمیرؔ
کچھ پھلوں کا شاخ پر رہنا بھی اچھی بات ہے
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن
رمل مثمن محذوف
فہرست