تیرے فتنے کہیں آرام تو لینے دیتے

سیف الدین سیف


چین اب مجھ کو تہِ دام تو لینے دیتے
تیرے فتنے کہیں آرام تو لینے دیتے
آپ نے اس کا تڑپنا بھی گوارا نہ کیا
دلِ مضطر سے کوئی کام تو لینے دیتے
موت بھی بس میں نہیں ہے ترے مجبوروں کی
زندگی میں کوئی الزام تو لینے دیتے
پل میں منزل پہ اڑا لائے فنا کے جھونکے
لطف رہ رہ کے بہر گام تو لینے دیتے
ہاتھ بھی تیری نگاہوں نے اٹھانے نہ دیا
دل بے تاب ذرا تھام تو لینے دیتے
سیفؔ ہر بار اشاروں میں کیا اس کو خطاب
لوگ اس بت کا مجھے نام تو لینے دیتے
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فہرست